اسلام آباد کے قریب گاﺅں شاہدرہ میں رات کو چیتا آ کر کیا کرتا ہے ؟ خوفناک انکشاف ہو گیا
اسلام آباد کے قریب گاﺅں شاہدرہ میں رات کو چیتا آ کر کیا کرتا ہے ؟ خوفناک انکشاف ہو گیا
اسلام آباد کے قریب واقع گاﺅں شاہدرہ میں چیتے کی وارداتوں کے باعث رہائشیوں میں خوف کا عالم ہے جو کہ گزشتہ کچھ دنوں میں مقامی افراد کے پالتو جانوروں پر حملہ کر کے انہیں اپنا ’ڈنر ‘ بنا چکا ہے ۔
چیتے کی آوارہ گردی اور چہل پہل کے باعث گاﺅں کے لوگوں کی نقل و حمل بھی محدود ہو کر رہ گئی ہے اور لوگ دیر رات اور صبح سویرے گھروں سے نکلنے سے پرہیز کرنے لگے ہیں ۔گاﺅں کے رہائشیوں کا کہناہے کہ چیتا ان کی دو درجن سے زائد بکریاں ، چھ سے زائد بھینسیں کو اپنا شکار بنا چکا ہے جس کے باعث لوگوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہاہے ۔گاﺅں کے رہائشی ذاکر نامی شخص کا کہناتھا کہ چیتے نے اس کی گائے پر گھر کے دو سو میٹر کے احاطے میں حملہ کیا اور اپنے ساتھ لے گیا ۔مسجد کے امام کی بھی کہانی کچھ اسی طرح کی ہے جس کی ماہانہ آمدن صرف آٹھ ہزار روپے ہے اور اس کے پاس بھی ایک گائے تھی جسے چیتے نے اپنے حملے کا نشانہ بنا دیا تاہم اب اس کے پاس اتنے بھی پیسے نہیں کہ وہ دوسری گائے خرید سکے ۔
ظہیر شاہ نامی شہری کا کہناتھا کہ چیتے کے حملے ابھی صرف جانوروں تک ہی محدود ہیں کیونکہ ہمیں فکر لاحق ہوتی ہے کہ بچوں نے صبح سویرے سکول کیلئے جانا ہوتا ہے اور ممکنہ طور پر چیتا دیر رات یا صبح سویرے حملہ کرتا ہے ۔
علاقے میں ایسی کوئی سہولت بھی میسر نہیں جہاں وہ چیتے کیخلاف کارروائی کیلئے حکام کو شکایت درج کروا سکیں ، چیتے کے باعث گاﺅں میں خوف و ہراس کا سماں ہے اور کوئی بھی شخص دیر رات یا صبح سویرے گھر سے نہیں نکلتا ہے ۔
وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے رکن سخاوت حسین کا کہناہے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں میں اس وقت چیتوں کے دو خاندان ہیں جن کی تعداد پانچ یا چھ ہے اور یہ گاﺅں بھی اسی علاقے میں آتا ہے ۔انہوں نے اعتراف کیا کہ گاﺅں کے رہائشیون کی جانب سے شکایات موصول ہوئی ہیں تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایسا کوئی بھی فنڈ نہیں ہیں جس کے ذریعے ہم لوگوں کی مدد کرسکیں اور ان کے نقصان کی بھرپائی کر سکیں ۔
Comments
Post a Comment