سندھ کی تمام سڑکوں کا ماسٹر پلان تیار کیا جا رہا ہے،خالی آسامیوں پر عنقریب میرٹ پر بھرتیاں شر وع کی جائیں گی: ناصر حسین شاہ
سندھ کی تمام سڑکوں کا ماسٹر پلان تیار کیا جا رہا ہے،خالی آسامیوں پر عنقریب میرٹ پر بھرتیاں شر وع کی جائیں گی: ناصر حسین شاہ
صو با ئی وزیر ورکس اینڈ سروسز سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ صوبہ سندھ کی تمام سڑکوں کا ماسٹر پلان تیار کیا جا رہا ہے جس کاسہرا پیپلز پارٹی کی حکومت کو جاتا ہے، تمام تر قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد تمام خالی آسامیوں پر عنقریب میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں گی اور بھرتیوں کے طریقہ کار کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے گا۔
سندھ اسمبلی میں محکمہ ورکس اینڈ سروسز سندھ کے وقفہ سوالات کے دوران جواب دیتے ہوئے ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کے احکامات پر صوبہ سندھ میں معذوروں کی بھرتی کے کوٹے میں اضافہ کردیا گیا ہے اور ان پر پورا پورا عمل درآمد کیا جائے گا،بھرتیاں خالصتاََ میرٹ پر کی جائیں گی اور حکومت کا اس سلسلہ میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک میرٹ پالیسی اور پروسز کے ذریعے کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت لوگوں کو روزگار دیتی ہے کسی سے روزگار چھینتی نہیں،موٹرویز کا تعلق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) سے ہے جو کہ وفاقی حکومت کی حدود میں آتا ہے ،وفاقی ہائی وے انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق کنکریٹ کی ہموارسڑک کی زندگی 25 سے 30 برس ہے جبکہ ڈامر کی پکی سڑک کی عمر 10 سے 12 سال ہے،کنکریٹ کی سڑکیں ڈامر کی سڑکوں کے مقابلے میں تین سے چار گنا مہنگی ہیں اور تعمیری عرصہ زیادہ لیتی ہیں جبکہ ڈامر کی سڑکوں کی تعمیر مشینری سے مکمل کی جاتی ہے،ڈامر کی پکی سڑکیں زیادہ ہموار ہوتی ہیں اور کنکریٹ سڑکوں کے مقابلے میں 50فیصد کم شور پیدا کرتی ہیں اور ڈامر کی سڑک پھسلن کے مقابلے میں بہتر حفاظت مہیا کرتی ہے، کنکریٹ کی سڑک مرمت کی لاگت ڈامر کی سڑک کے مقابلے میں زیادہ اور طریقہ کار پیچیدہ ہے۔ناصر حسین شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ یکم جولائی 2017 سے 30 جون 2018 کے درمیان محکمہ ورکس اینڈ سروسز میں کسی بھی قسم کے کنٹریکٹ یا مستقل بنیادوں پر بھرتی نہیں کی گئی تاہم 137 افراد کو فوتی و معذور کوٹہ پر سندھ پبلک سروس کمیشن کی سفارشات پر بھرتی کیا گیا، 36 اسسٹنٹ انجینئرز ،پانچ سب انجینئرز کو معذور کوٹے پر اور جبکہ 96 افراد فوتیگی کو ٹہ پر مختلف گریڈ میں بھرتی کئے گئے۔
Comments
Post a Comment