ساہیوال میں گاڑی پر فائرنگ کر کے بعد جب سی ٹی ڈی اہلکار قریب آئے تو خلیل اور اہلکاروں کے درمیان کیا مکالمہ ہوا؟ حامد میر نے بڑ انکشاف کر دیا
ساہیوال میں گاڑی پر فائرنگ کر کے بعد جب سی ٹی ڈی اہلکار قریب
آئے تو خلیل اور اہلکاروں کے درمیان کیا مکالمہ ہوا؟ حامد میر نے بڑانکشاف کر دیا ساہیوال میں دو روز قبل سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ایک سفید رنگ کی گاڑی پر فائرنگ کر کے اس میں سوار تمام افراد کو قتل کر دیا ہے جبکہ تین بچے زندہ بچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن وہ اپنے ماں باپ کی شفقت اور محبت سے زندگی بھر کیلئے محروم ہو گئے ہیںاور اس پر پوری قوم ہی افسردہ ہے اور حامد میر نے بھی آج اپنے کالم میں بے انتہا اہم ترین انکشافات کیے ہیں ۔
سینئر صحافی حامد میر نے اپنے آج اپنے کالم میں اپنے احساسات کو کچھ یوں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”آج اپنے دل کا کیا حال سناﺅں؟ یہ دل بہت زخمی ہے۔ ان زخموں کے پیچھے ایک بے بسی کا احساس ہے۔ بے بسی کا یہ احساس نشتر بن کر بار بار دلِ ناتواں پر زخم لگا رہا ہے۔ آج صرف میرا نہیں، اکثر اہلِ وطن کا دل زخمی ہے۔ جس جس نے سانحہ ساہیوال میں زندہ بچ جانے والے تین بچوں کے چہروں پر دکھ اور بے بسی کو محسوس کیا ہے، اسے ان بچوں کی بے بسی میں اپنی بے بسی نظر آئی ہو گی۔ جب بھی کسی بے گناہ کو گولیاں مار کر دہشت گرد یا لٹیرا قرار دیا جاتا ہے تو میری آنکھوں کے سامنے وہ تمام واقعات گھومنے لگتے ہیں جن میں پہلے کسی بے گناہ پر ظلم کیا گیا، پھر اس ظلم کو چار چاند لگا کر ایک کارنامہ بنا دیا گیا۔
Comments
Post a Comment