وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ ملتان کے موقع پر دکانیں بند کرانے کا واقعہ، عثمان بزدار نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا
وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ ملتان کے موقع پر دکانیں بند کرانے کا واقعہ، عثمان بزدار نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنےاپنے دورہ ملتان کے موقع پر بعض دکانیں بند کرانے کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی خبر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمشنر ملتان ڈویژن اور آر پی او ملتان سے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ انتظامیہ کو 24 گھنٹے میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب دورہ ملتان کے دوران انتظامیہ کی جانب سے دکانیں بند کرائے جانے کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے دورے کے دوران دکانیں بند کرانا کسی صورت قابل قبول نہیں،میں شہریوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کر رہا ہوں اور دکانیں بند کرا کر لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہماری پالیسی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی دکانیں بند کرائی ہیں، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ آج وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پولیس کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں شرکت ...
یکیمونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے منشیات فروش کو پھانسی دے دی گئی
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈانگ کے گاؤں بوشے کے کیمونسٹ پارٹی کے سربراہ کائے ڈانگجیا کو کرسٹل میتھ المعروف آئس کا گاڈر فادر تصور کیا تھا۔کائے ڈانگجیا جس گاؤں کے سربراہ تھے اس گاؤں کے بیس فیصد گھروں میں کرسٹل میتھ تیار کی جاتی تھی۔کائے ڈانگجیا کے تحفظ میں کاشے گاؤں میں پورے ملک میں تیار ہونے والی کرسٹل میتھ کی پیداوار کا ایک تہائی حصہ تیار ہوتا تھا۔کائے ڈانگجیا پر الزام تھا کہ وہ نہ صرف خود منشیات کی تیاری اور سمگلنگ میں ملوث تھے بلکہ پورے گاؤں میں مجرموں کا تحفظ کرتے تھے۔ وہ اپنے گاؤں میں سب سے بڑے سرکاری اہلکار تھے۔اس چھاپے میں تین ہزار پولیس اہلکاروں نے الصبح بوشے گاؤں پر چھاپہ مار کر تین ٹن کرسٹل میتھ اور 180 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔پولیس نے اسی آپریشن کے دوران آدھا ٹن کیٹامائن منشیات بھی برآمد کی تھی۔کائے ڈانگجیا کو 2016 میں منشیات کی تیاری ، سمگلنگ اور مجرموں کو تحفظ دینے کے الزام پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
Comments
Post a Comment