وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ ملتان کے موقع پر دکانیں بند کرانے کا واقعہ، عثمان بزدار نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا
وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ ملتان کے موقع پر دکانیں بند کرانے کا واقعہ، عثمان بزدار نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنےاپنے دورہ ملتان کے موقع پر بعض دکانیں بند کرانے کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی خبر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمشنر ملتان ڈویژن اور آر پی او ملتان سے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ انتظامیہ کو 24 گھنٹے میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب دورہ ملتان کے دوران انتظامیہ کی جانب سے دکانیں بند کرائے جانے کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے دورے کے دوران دکانیں بند کرانا کسی صورت قابل قبول نہیں،میں شہریوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کر رہا ہوں اور دکانیں بند کرا کر لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہماری پالیسی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی دکانیں بند کرائی ہیں، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ آج وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پولیس کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں شرکت ...
ےشبنم‘ لڑکیوں کے مقبول ناموں میں سے ایک ہے۔ بالخصوص بھارت میں یہ نام خاصا پسند کیا جاتا ہے تاہم بھارت ہی کا ایک گاؤں ایسا ہے جہاں اس نام سے نفرت کی جاتی ہے۔وہاں کوئی ماں باپ اپنی لڑکی کا یہ نام نہیں رکھتے اور اس کی وجہ ایسی ہولناک ہے کہ سن کر آدمی کی روح کانپ جائے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ ریاست اترپردیش کی مراد آباد ڈویژن کا گاؤں ’بھون کھیری‘ ہے جو امروہہ شہر سے 20کلومیٹر کے فاصلے پر واقعے ہے۔ 11سال قبل اس گاؤں کی ایک شبنم نامی لڑکی نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر اپنے پورے خاندان کوموت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس لڑکی نے سفاکیت کی ایسی مثال قائم کی کہ گاؤں کے لوگ آج بھی اس کا تصور کرکے خوفزدہ ہوجاتے ہیںرپورٹ کے مطابق شبنم پڑھی لکھی لڑکی تھی۔ اس نے انگریزی اور جغرافیہ میں ڈبل ایم اے کر رکھا تھا لیکن اس کا معاشقہ سلیم نامی ایک ایسے نوجوان سے شروع ہو گیا جس نے چھٹی جماعت سے سکول چھوڑ دیا تھا اور اب محنت مزدوری کرتا تھا۔ شبنم کا والد بھی پروفیسر تھا اور ان کے پاس اچھی خاصی زمین جائیداد بھی تھی۔ شبنم سیفی مسلمان گھرانے سے تعلق نے ان کے رشتے سے انکار کر دیا۔رکھتی تھی جبکہ سلیم پٹھان تھا۔ ان عوامل کے پیش نظر شبنم کے والدین دوسری طرف شبنم اپنے آشنا کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ وہ 7ہفتے کی حاملہ تھی جب اس نے سلیم کے ساتھ مل کر اپنے گھر والوں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ایک رات اس نے گھر کے تمام 7افراد کو کھانے میں نشہ آور گولیاں کھلا دیں اور پھر بے ہوشی کی حالت میں ہی چھری سے سب کے گلے کاٹ دیئے۔ مقتولین میں ایک 8ماہ کا بچہ بھی شامل تھا۔ اس ہولناک واردات کے بعد سے آج تک گاؤں کے لوگوں نے پیدا ہونے والی کسی لڑکی کا نام شبنم نہیں رکھا۔قتل کی واردات کے بعد شبنم، جس کی عمر اب 35سال ہو چکی ہے، نے گھر کی بالکونی میں آ کر شور مچا دیا کہ ڈاکوؤں نے اس کے سب گھر والوں کو مار ڈالا ہے۔ پولیس کو اس کے بیان پر شبہ ہوا جس پر اسے گرفتار کرکے تفتیش کی گئی تو اس نے سب کچھ اُگل دیا، جس کے بعد سلیم کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ جونہی معاملہ عدالت میں پہنچا تو دونوں ایک دوسرے کے خلاف بولنے لگے۔ سلیم خود کو بے قصور کہتا اور شبنم کہتی کہ اس نے سلیم کے اکسانے پر یہ واردات کی۔ زیریں عدالت نے دونوں کو سزائے موت سنائی جو اعلیٰ عدالتوں نے بھی برقرار رکھی اور دونوں کی صدر سے رحم کی اپیل بھی مسترد ہو چکی ہے۔ اب دونوں کے وکلاء نے سپریم کورٹ میں فیصلے پر نظرثانی کی اپیلیں دائر کر رکھی ہیں جن پر چند ہفتے میں فیصلہ متوقع ہے۔
Comments
Post a Comment