”عمران خان کے والد سے اکرام اللہ نیازی کے ساتھ بہت قریبی تعلق رہا اور یہ بات سو فیصد غلط ہے کہ ۔۔۔“سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے ایسی بات کہہ دی کہ ناقدین بھی شرمندہ ہو جائیں گے

”عمران خان کے والد سے اکرام اللہ نیازی کے ساتھ بہت قریبی تعلق رہا اور یہ بات سو فیصد غلط ہے کہ ۔۔۔“سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے ایسی بات کہہ دی کہ ناقدین بھی شرمندہ ہو جائیں گے”عمران خان Ú©Û’ والد سے اکرام اللہ نیازی Ú©Û’ ساتھ بہت قریبی تعلق رہا اور یہ بات سو فیصد غلط ہے کہ ۔۔۔“سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی Ù†Û’ ایسی بات کہہ دی کہ ناقدین بھی شرمندہ ہو جائیں Ú¯Û’ سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے وزیراعظم عمران خان کے والد پر کرپشن کا الزام لگانے والوں کو جواب دے دیا ۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ عمران خان کے والداکرام اللہ نیازی کےساتھ بہت قریبی تعلق رہا، یہ بات سوفیصدغلط ہے کہ انہیں کرپشن کی بنیاد پرذوالفقاربھٹونے نکالا۔انہوں نے کہا کہ اکرام اللہ نیازی نے1959میں ایوب خان کے دورمیں نوکری چھوڑدی تھی۔ مجیب الرحمان شامی نے مزید کہا کہ بے پرکی اڑانے والے کچھ خداخوفی کریں، سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگرمخالفین کے والدین پرتہمتیں نہیں لگانی چاہئیں۔


واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مخالفین کی جانب سے اکرام اللہ نیازی پر لگائے جانے والے جھوٹے الزامات پر مجیب الرحمان شامی نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے والد محترم اچھے انجینئر اور اچھے انسان تھے۔ وہ ایکسیئن تھے اور انہوں نے نواب آف کالا باغ کے دور میں خود استعفی دیاتھاکیوں کہ میانوالی میں نیازی فیملی اور نواب فیملی ایک دوسرے کے مقابل تھے۔انہوں نے بتا یا تھا کہ عمران خان کے والد محترم اکرام اللہ خان ایک انتہائی فرض شناس، دیایندار اور محنتی انجینئر تھے وہ ڈاکٹر مبشر حسن کے ہم عصر تھے۔انہوں نے سکالر شپ پرلندن سے ایم ایس کی ڈگری حاصل کی تھی۔ان کے حوالے سے یہ بات کہنا کہ وہ بددیانت یا چور تھے پرلے درجے کا جھوٹ ہے۔ایسا جھوٹ ہے جس پر نفرین بھیجنی چاہیے۔

Comments

Popular posts from this blog

وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ ملتان کے موقع پر دکانیں بند کرانے کا واقعہ، عثمان بزدار نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا

خادم حسین رضوی سمیت 5 ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان ،سعودی عرب سے 30 ارب ڈالرز کا پیکج ملنے کا امکان